Posts

بیلاروس: یورپ کا واحد ملک جو کورونا وائرس سے پریشان نہیں ہے

یورپ اب کورونا وائرس کی عالمی وبا کا مرکز بن چکا ہے لیکن اسی براعظم پر ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں حکام عوام کو اپنے روز مرہ کی زندگی کے معمولات کو تبدیل نہ کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔ بیلاروس کئی اعتبار سے ایک انوکھا ملک ہے۔ یہ یورپ کے دیگر ملکوں اور اپنے قریب ترین ہمسایہ ممالک، یوکرین اور روس، سے بہت مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یوکرین ہنگامی حالت نافذ کرنے والا ہے جبکہ روس میں سکول بند کر دیے گئے ہیں، بڑے اجتماعات پر پابندی ہے اور ملک میں آنے اور جانے والی تمام پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بیلاروس میں کئی لحاظ سے زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ بیلا روس کی سرحدیں کھلی ہیں، لوگ اپنے کاموں پر جا رہے ہیں اور سراسیمگی کے عالم میں کوئی ٹوائلٹ پیپر خرید کر ذخیرہ نہیں کر رہا۔ خوف زدہ نہ ہوں بیلاروس کے صدر الیگزیندر لوکاشنکو کہتے ہیں کہ ملک کو کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کوئی احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک کے دارالحکومت منسک میں چین کے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہشت زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہ...

خلائی سٹیشن کو جراثیم سے کیسے پاک رکھا جاتا ہے؟

Image
سنہ 1998 تک روس کے خلائی سٹیشن ’میر‘ کو خلا میں گردش کرتے ہوئے 12 سال گزر چکے تھے اور وقت کے ساتھ اس میں بار بار بجلی کی سپلائی میں خلل، کمپیوٹر کے نظام میں خرابی اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا نظام خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور پھر اس پر کام کرنے والے اہلکاروں نے اپنے ماحول میں موجود مائیکروبز یعنی خوردبینی جرثوموں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ جو معلومات سامنے آئیں وہ جان کر اُنھیں سخت حیرت ہوئی۔ سپیش سٹیشن کا معائنہ کرنے کے لیے لگائے گئے پینل ہٹائے گئے تو ان کے پیچھے گدلا پانی ملا۔ بعد میں اس کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ پانی بیکٹیریا اور جراثیم وغیرہ سے بھرا ہوا تھا۔ اس بھی زیادہ پریشان کُن بات یہ تھی کہ یہ بیکٹریا اور جراثیم خلائی سٹیشن کی کھڑکیوں کے گرد ربڑ کی سیل کو کھا رہے تھے، یہی نہیں یہ جاندار، جن سے تیزابی مادے کا اخراج ہوتا ہے، بجلی کی تاروں کو بھی کھا رہے تھے۔ جب ’میر‘ سپیس سٹیشن کا کوئی بھی موڈیول زمین سے چلتا ہے تو اسے انجینئیرز مکمل طور پر صاف کمروں میں حفاظتی ماسکس اور لباس پہن کر تیار کرتے ہیں۔ سپیس سٹیشن میں موجود غیر ضروری جراثیم سٹیشن پر مختلف اوقات...

کورونا وائرس: کیا امریکہ نے کووِڈ 19 کے علاج کے لیے کلوروکوئن کو منظور کر لیا ہے؟

Image
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی ایک دوائی کو امریکہ نے نئے کورونا وائرس، کووِڈ 19، کے علاج کے لیے منظور کر لیا ہے۔ کلوروکوئن ملیریا کے علاج کی سب سے قدیم، مشہور اور مؤثر دوا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا صدر ٹرمپ درست کہہ رہے ہیں اور آیا یہ دوائی کورونا کے علاج کے لیے کتنی مؤثر ہے؟ کلوروکوئن گذشتہ کئی دہائیوں سے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ مگر براعظم افریقہ کے بہت سے علاقوں میں یہ دوا اب تجویز نہیں کی جاتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ افریقہ کہ ان مخصوص علاقوں میں ملریا پھیلانے والے جرثوموں نے اس دوا کے خلاف اپنی مدافعت کی صلاحیت بڑھا لی ہے۔

تمہیں پہنچے ہمارا سلام۔۔۔ اٹلی کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی دورانِ علاج تصاویر وائرل

Image
کورونا وائرس جیسے وبائی مرض سے صرف مریض ہی نہیں بلکہ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز بھی لڑ رہےہیں_ دنیا بھر میں ڈاکٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے_ ایسے میں اٹلی میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی آئی سی یو سے شیئر کی گئیں تصاویر نے دنیا بھر کے لوگوں میں ان کی محبت مزید بڑھا دی ہے_

کیسے پتا چلے کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر تو نہیں؟

کورونا وائرس کی دو اہم علامات ہیں۔ یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ مگر آپ کیسے جانچ سکتے ہیں کہ آپ کو کورونا وائرس کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے یا آپ جو محسوس کر رہے ہو سکتے ہیں وہ شاید عام نزلہ اور زکام ہے؟